بسم الله الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمتہ الله و برکا تہ ،
پچھلے دنوں اٹلی کے سفر کے دوران ملک کے ٨ مختلف
شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا. وینس، بولونیا، فلورنس ، لککا ، پیسا، سینا، نپلس
اور دارالسلطنت روم. ہر شہر میں بنگلادیشی اور پاکستانی مسلمانوں کی اچّھی خاصی
تعداد دیکھنے کو ملی. اور ایسے ہی مسلم
کاروباریوں نے شہر میں مساجد یا عبادت خانوں کا انتظامیہ سمبھال رکھا ہے.
حلال کھانا کے لئے ریسٹورانٹ چلانے والوں میں پاکستانی برادران زیادہ حسساس ملے.
نپلس اور روم میں تبلیغی جماعت کا بھی کام دکھا.
روم (٣١ مارچ – ١ اپریل، ٢٠١٣) میں قیام کے
دوران وہاں موجود اٹلی کے سبسے بڑے مسجد
کی زیارت کی خواہش ساتھ تھی. روم کے مشھور کامپی اسپورٹوی علاقے میں یہ مسجد ہے. جہاں
ایک طرف پروقار اور بلند جھلک سے میری
آنکھوں کو راحت ملی، وہیں احاطے میں داخل ہونا مشکل اور انتظار کن رہا... گویا یہ
عام مسلمانوں کی عبادتگاہ نہ ہوکر سعودی عرب کے کسی بادشاہ کا قلعہ ہو ! پہلے تو
یہ اندازہ لگانا مشکل ہوا کہ داخل ہونے کا راستہ کدھر سے ہے یا کمپس کے مختلف
دروازوں میں سے کون سا دروازہ استمعال ہوتا ہے. تقریبا' ١٠-١٥ منٹ کے پش-و-پیش کے
بعد خوشقسمتی سے ایک صاحب نمودار ہوے جنہیں بھی اندر داخل ہونا تھا. اتفاق سے وہ
جناب انتظامیہ کے اہلکار تھے. انکے بلاوے پر ایک شخص اندر سے ریموٹ لیکر آیا اور
جو ظاہری طور پر ایک مستحکم دیوار لگ رہی تھی، وہ
ایک طرف سرکنے لگی اور اسمیں سے اندر داخل ہونے کا راستہ نکل آیا. ہمارے
داخل ہونے کے بعد دروازہ واپس بند کر دیا گیا.
جب میں نے ان صاحبان سے وضو گاہ کے بارے میں
پوچھا تو ایک عمارت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ نماز کا وقت ہونے کو ہے، دروازہ جلد
کھلیگا. دروازے کے کنارے بیٹھ کر انتظار کرنے کے قریب ٢٠ منٹ کے بعد دوبارہ انمیں
سے ایک کارکن کا ظہور ہوا. جب مہینے پوچھا کہ وضو خانہ اب تک کیوں نہیں کھلا، تو
انہونے بڑے مودب انداز میں مجھے بتایا کہ وضو خانہ کے ذمہ دار آج سرکاری چھٹی کی
وجہ سے نہیں آے ہیں تو کچھ تاخیر ہوگی.
جہاں ایک طرف عالم کے مختلف حصّوں سے روزگار کی
تلاش میں وہاں رہایش کرنے والے ہزاروں مسلمان کرایہ کے انتظام کے ساتھ مساجد اور
عبادت خانوں کے نظم کو بخوبی چلا رہے ہیں اور اسے آباد رکھ رہے ہیں، وہیں ایک
باضابطہ تیّار مسجد کی یہ حالت دیکھکر کافی افسوس ہوا. معلوم ہوا کہ جمہ کو یہ
کمپس آباد ہوتا ہے اور بقیہ دنو اتنی ہی تعداد ہوتی ہے جتنی میں نے ظہر کے نماز
میں دیکھی – میری طرح ٥ مسافروں کو ملاکر
کل ١٠-١٢ لوگ.
مجھے امید ہے کہ اگر انتظامیہ احاطے میں داخلے
جیسے معمولی چیزوں میں فراخدلی کا مظاہرہ کرے تو پنجگانہ نمازوں میں اور ہفتہ کے
سبھی دنوں میں نمازیوں اور میرے جیسے مسافروں کی دلچسپی بڑھےگی اور اس طرح مسجد
آباد رہیگی. انشاللہ !
والسلام و طالب الدعا ،
نور الصالحین
کویمبرا، بروز جمہ، ١٢ اپریل ٢٠١٣